3 نومبر 2011 - 20:30

یاد رہے کہ سانحہ عیدالفطر کے بعد سے علمدار روڈ کے علاقے کو شیعہ نوجوانوں نے مکمل سیل کر رکھا تھا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے / وزیراعلی: شیعیان کوئٹہ چیک پوسٹ ہٹائیں، رئیسانی؛ شیعیان کوئٹہ: نہیں ہٹائیں گے۔/ شیعہ نوجوانوں پر اندھا دھند فائرنگ

ابنا: کوئٹہ علمدار روڈ کے علاقے نچاری روڈ کے قریب نامعلوم دہشتگردوں  شیعہ محافظین پر فائرنگ کردی اور شیعہ نوجوانوں کی جوابی فائرنگ سے 4 دہشتگرد زخمی جبکہ بقیہ فرار ہو گئے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

دریں اثناء وزیر اعلی رئیسانی نے شیعیان کوئٹہ کو "احکامات" جاری کئے ہیں کہ وہ چیک پوسٹ ہٹائیں،مگر شیعہ نوجوانوں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ ہم چیک پوسٹ  نہیں ہٹائیں گے۔

اطلاعات کے مطابق حال ہی میں شیعیان کوئٹہ کے حوالے سے اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی بجائے ان کو ٹیشو پیپرز بھجوانے کی تجویز پیش کرنے والے وزیر اعلی بلوچستان اسلم رئیسانی نے کل علمدار روڈ پر دہشت گردوں کے حملے اور حکومت سے مایوس شیعیان کوئٹہ کی جانب سے از خود دفاعی اقدامات کرنے کے بعد ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شیعہ عوام کو نہایت سخت لب و لہجے میں اپنے تمام سیکورٹی چیک پوسٹ ہٹانے کا حکم  دیا ہے تا ہم دوسری جانب سے علمدار روڈ اور ملحقہ شیعہ آبادی کے علاقوں میں سیکورٹی کے فرائض انجام دینے والے شیعہ نوجوانوں پر مشتمل گروپ نے اس حکم کو مسترد کرتے ہوئے چیک پوسٹ برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

کوئٹہ کے نوجوانوں نے تاحال شیعیان کوئٹہ کو تحفظ دینے میں اسلم رئیسانی کی مکمل ناکامی کے بعد ان کے احکامات کو غیر ذمہ دارانہ اور احمقانہ قرار دیا ہے اور کہا کہ وزیر اعلی اسلم رئیسانی کی خواہش یہی ہے کہ شیعہ مرنے کے انتظار میں بیٹھ جائیں لیکن ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے اور ایک ہزار لاشیں اُٹھانے کے باوجود بھی اس قوم میں ابھی اتنی اپنی حفاظت خود کرنے کی ہمت ہے۔کوئٹہ کے شیعہ نوجوانوں نے وزیر اعلی کو ذہنی علاج کرانے کا مشورہ دیا ہے۔ واضع رہے کے کل علمدار روڈ کےعلاقے قدم علی اسٹریٹ میں شیعہ نوجوانوں پر سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناپاک دہشتگردوں نے خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی تھی، جس کے جواب میں سیکورٹی چیک پوسٹوں پر موجود شیعہ نوجوانوں نے بھی اپنا دفاع کرتے ہوئے دہشتگردوں کو مار بھگایا تھا جبکہ دہشت گردوں میں سے چار زخمی ہوئے ہیں۔ یاد رہے سانحہ عیدالفطر کے بعد شیعہ نوجوانوں نے حکومت کی جانب سے کسی خیر اور حکمرانوں کی جانب سے فرائض منصبی نبھانے سے مکمل غفلت کے بعد علمدار روڈ کے علاقے کو  مکمل سیل کر رکھا ہے تا کہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔

کوئٹہ: شیعہ نوجوانوں پر اندھا دھند فائرنگاطلاعات کے مطابق علمدار روڈ کےعلاقے قدم علی سٹریٹ میں شیعہ نوجوانوں پر دہشتگردوں نے خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔

نمائندے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق علمدار روڈ کےعلاقے قدم علی سٹریٹ میں شیعہ نوجوانوں پر سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناپاک دہشتگردوں نے خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی. اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں،سیکورٹی ڈیوٹی پر موجود شیعہ نوجوانوں کی جوابی فائرنگ سے دہشتگرد فرار ہوگئے،

سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے چار دہشتگرد زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق ایک شخص نے قدم علی اسٹریٹ نزد تندور سخی داد پر قایم شیعہ نوجوانوں کے چیک پوسٹ پر حملہ کرکے پہرے پر موجود نوجوانوں سے ہاتھا پائی کی جسکے کچھ دیر بعد مذکورہ شخص اپنے ہمراہ چالیس سے پچاس مسلح افراد کا گروہ لیکر دوبارہ اسی چیک پوسٹ پر حملہ کردیا۔

شیعہ نوجوانوں کو اشتعال دلانے کے لئے اس مسلح گروہ نے شیعہ آئمہ اور عقائد کے بارے میں ہتک آمیز جملات استعمال کرنے کے بعد فائرنگ شروع کردی. اس اشتعال انگیزی اور فائرنگ کے جواب میں شیعہ نوجوانوں نے فائرنگ کی. جس سے اب تک اطلاعات کے مطابق ایک حملہ آور ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ جس شخص نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے اسکا پندرہ سالہ بیٹا دو ماہ قبل مسجد عبداللہ جان کے قریب ناکے پر خودکش حملہ آور کے شبہے میں پولیس فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا تھا. ایف سی اور پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلیے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ جبکہ علمدار روڈ اور گرد و نواح سے شیعہ گنجان آبادی کی طرف جانے والے تمام راستوں پر شیعہ نوجوان بدستور سیکورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں. صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلیے امام بارگاہ قندھاری میں شیعہ قوم کے زعماء اور انتظامیہ کا اجلاس جاری ہے.

واضع رہے کہ دو روز قبل ایران سے پاکستان آنے والے شیعہ مومنین پر اسی ناصبی ٹولے نے فائرنگ کی تھی، حکومت فی الحال گلگت میں شیعہ تنظیموں پر پابندی لگانے میں مصروف ہے، اور اس نے دہشتگرد تنظیموں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔

...............

/169 - 110